باب الریان
معنی
١ - جنت کے ایک دروازے کا نام۔ "جو شخص روزہ دار ہو گا وہ باب الریان سے پکارا جائے گا۔" ( ١٨٦٥ء، مذاق العارفین، ٦٩٤:٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں دو اسما پر مشتمل مرکب ہے 'ال' عربی قواعد کے تحت بطور تخصیص مستعمل ہے اور 'ر' چونکہ حروف شمسی میں سے ہے لہٰذا 'ال' غیر ملفوظ ہیں۔ یہ ترکیب عربی سے اردو میں ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٦٥ء میں "مذاق العارفین" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جنت کے ایک دروازے کا نام۔ "جو شخص روزہ دار ہو گا وہ باب الریان سے پکارا جائے گا۔" ( ١٨٦٥ء، مذاق العارفین، ٦٩٤:٤ )